احتجاج کے طور پر فن – ایک زبان جو سب کو سمجھ آتی ہے
کبھی آپ نے سوچا ہے کہ جب کسی انسان کی بات سنی نہ جائے تو وہ کیا کرتا ہے؟ اکثر لوگ سڑکوں پر آ جاتے ہیں، نعرے لگاتے ہیں یا کوئی علامت بنا لیتے ہیں۔ یہی علامت اکثر فن کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے فنکار کا برش تلوار سے زیادہ طاقتور ہے۔
فن اور تاریخ
یہ روایت نئی نہیں۔ صدیوں سے لوگ فن کے ذریعے اپنی بات منواتے آئے ہیں۔ آزادی کی تحریک میں شاعری نے کیا کردار ادا کیا؟ سب جانتے ہیں۔ اقبال کے اشعار نے خواب دکھائے اور فیض کے کلام نے دلوں کو جگایا۔ یہ سب کچھ صرف لفظ نہیں تھے، یہ عوام کا جذبہ تھا جو فن کے ذریعے سامنے آیا۔
دیواروں کی زبان
آج کل شہروں میں دیواریں بھی بولتی ہیں۔ کہیں گرافٹی ہے تو کہیں تصویریں۔ کبھی آپ نے دیکھا ہے کہ ایک چھوٹی سی تصویر یا جملہ، ساری بات سمجھا دیتا ہے؟ یہی احتجاجی فن ہے۔ یہ چپ رہ کر بھی شور مچاتا ہے۔
گانے اور ڈرامے
فن صرف رنگوں یا تصویروں تک محدود نہیں۔ ایک گانا، ایک ڈرامہ یا ایک اسٹیج پرفارمنس بھی احتجاج بن سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، کئی گانے ایسے ہیں جو سننے والے کے دل کو ہلا دیتے ہیں۔ ڈرامے اور تھیٹر نے بھی کئی بار معاشرے کو آئینہ دکھایا ہے۔
کیوں ضروری ہے یہ فن؟
حکومتیں اکثر احتجاجی فن کو پسند نہیں کرتیں۔ کیونکہ یہ ان کی کمزوریاں ظاہر کرتا ہے۔ لیکن یہی فن لوگوں کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ ایک تصویر، ایک شعر یا ایک گانا، لوگوں کے اندر سوال پیدا کرتا ہے۔ یہی سوال آہستہ آہستہ تبدیلی کی شکل اختیار کرتے ہیں۔
آج کا زمانہ
اب زمانہ بدل گیا ہے۔ پہلے احتجاجی فن صرف دیواروں یا کاغذ پر ہوتا تھا۔ آج سوشل میڈیا نے اسے دنیا بھر میں پہنچا دیا ہے۔ ایک تصویر یا ویڈیو چند لمحوں میں وائرل ہو جاتی ہے۔ اس سے صاف پتا چلتا ہے کہ فن اب صرف کینوس پر نہیں بلکہ ہر اسکرین پر زندہ ہے۔
نتیجہ
فن احتجاج کی وہ زبان ہے جو سب کو سمجھ آتی ہے۔ یہ زبان خاموش بھی ہو سکتی ہے اور للکار بھی۔ فن بندوق کی طرح نقصان نہیں پہنچاتا، لیکن دل اور دماغ کو بدل دیتا ہے۔ جب تک ظلم باقی ہے، فنکار اپنی تخلیق کے ذریعے آواز بلند کرتے رہیں گے۔
مزید پڑھیۓ :
فنِ مصوری: انسان کی تخلیقی زبان اور تاریخ کا رنگین سفر

Post a Comment